آرزو
کا پیدا ہونا فطری بات ہے۔ انسانوں میں آرزوئیں پیدا ہوتی ہی رہتی ہیں۔
کوئی آرزو ، شکست آرزو تک سفر کرتی ہے۔ کوئی آرزو انسان کو بے نیاز آرزو
کردیتی ہے۔ کوئی آرزو اسے کُوبکُو پھراتی ہے۔ کوئی آرزو اس کو اپنی ذات کے
روبرو لاتی ہے اور کوئی آرزو اسے خوش قسمتی سے سرخرو کردیتی ہے۔
کون سی آرزو کیا کرتی ہے ، اس کا علم انسان کو ہونا چاہیے۔ ورنہ آرزو جگر کا لہو بن کر خون کا آنسو بنے گی۔
کرن کرن سورج از واصف علی واصف سے اقتباسات
کون سی آرزو کیا کرتی ہے ، اس کا علم انسان کو ہونا چاہیے۔ ورنہ آرزو جگر کا لہو بن کر خون کا آنسو بنے گی۔
کرن کرن سورج از واصف علی واصف سے اقتباسات

0 comments:
Post a Comment